Skip to main content

سابق ذمہ داران

Blog Image

شیخ القرآن والحدیث مولانا گوہر رحمن رحمہ اللہ

سابق: صدر رابطۃ المدارس الاسلامیہ پاکستان

مولانا گوہر رحمنؒ ایک صاحب ِ علم دینی گھرانے میں مانسہرہ کے ایک چھوٹے سے گائوں (چمراسی درہ شنگلی) میں ۱۹۳۶ء میں پیدا ہوئے۔ والد محترم مولوی شریف اللہ کے انتقال کے بعد‘ جو آبائی گائوں سے کوئی ۱۰ میل دُور کوبائی نام کے ایک گائوں میں امام تھے‘   عالم طفولیت ہی میں والدہ‘ ایک بھائی اور تین بہنوں کے ساتھ‘ دنیوی سہارے سے محروم ہو کر‘ ننھیال منتقل ہو گئے اور بڑی عسرت کی زندگی گزاری۔ ماں کی محبت اور محنت سے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا‘ پرائمری تعلیم کے بعددینی تعلیم حاصل کی اور ۱۵ سال کی عمر میں درسِ نظامی سے فراغت حاصل کر لی۔ اس زمانے کے بارے میں بتاتے ہیں کہ ’’کھانا تو مسجد میں کسی نہ کسی طرح مل ہی جاتا تھا اگرچہ ہشت نگر کے گائوں شیخوتروسردھڑی کے دورانِ قیام میں بعض اوقات ہفتوں تک دن کا فاقہ کرنا پڑتا تھا لیکن کپڑوں اور جوتوں کے لیے اسباق کے اوقات کے بعد مزدوری کرتا تھا‘‘۔

ایسی پُرمشقت زندگی کے باوجود انھوں نے حصولِ علم میں کوئی دقیقہ نہ چھوڑا اور ۱۹۵۱ء میں تحصیل صوابی کی ایک مسجد میں درس و تدریس کا آغاز کیا۔ پھر مولانا غلام اللہ خان مرحوم کے دارالعلوم تعلیم القرآن راولپنڈی اور دارالعلوم سلفیہ فیصل آباد میں مختصر مدت کے لیے درس وتدریس کے فرائض انجام دینے کے بعد بالآخر مولانا غلام حقانی امیرجماعت اسلامی صوبہ سرحد کے مشورے سے ۱۹۶۷ء میں دارالعلوم تفہیم القرآن کی بنیاد ڈالی جو مولانا گوہر رحمن کی مسلسل محنت‘اللہ تعالیٰ کے فضل اور ساتھیوں کی تائید و معاونت سے آج صوبہ سرحد کی ایک عظیم جامعہ کا مقام حاصل کرچکی ہے۔ اس سے ہزاروں طلبا دین کا علم حاصل کر کے ملک ہی نہیں دنیا کے طول و عرض میں پھیل چکے ہیں۔ دارالعلوم تفہیم القرآن آج ایک منفرد تعلیمی ادارہ ہے جس میں مخلص اور صاحب ِ نظر اہل علم جمع ہیں اور جو قدیم کے ساتھ جدید کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے بھی کوشاں ہے۔

مولانا گوہر رحمن کا جماعت اسلامی سے تعلق ۱۹۵۲ء میں قائم ہوا اور رکنیت کا رشتہ ۱۹۶۳ء میں استوار ہوا جس کے بعد وہ تحریک میں اہم سے اہم تر ذمہ داریوں کے مناصب پر فائز ہوتے رہے۔ وہ ۱۹۶۳ء سے وفات تک مرکزی شوریٰ کے رکن رہے‘ کئی کمیٹیوں کے سربراہ بنے، ۱۲‘ ۱۳ سال صوبہ سرحد کے امیر رہے‘ جمعیت اتحادالعلما کے سرپرست اعلیٰ منتخب ہوئے اور ۱۹۸۷ء سے رابطہ المدارس کے صدر رہے۔ ۱۹۸۵ء سے ۱۹۸۸ء تک مرکزی اسمبلی کے رکن رہے۔ اسی زمانے میں انھوں نے شریعت بل (مئی ۱۹۸۵ئ) کا مسودہ اسمبلی میں پرائیویٹ ممبرز بل کے طور پر پیش کیا جو سینیٹ میں شریعت بل کی بنیاد بنا۔ ملک میں نفاذِ شریعت کی تحریک کو پروان چڑھانے میں مولانا گوہر رحمن کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل رہا۔

فکری اعتبار سے مولانا مرحوم اپنے کو دیوبندی مکتب ِ فکر کا حصہ سمجھتے تھے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ ہمارے پورے علمی ورثے کے وارث تھے۔ طالب علمی ہی کے دور میں شاہ اسماعیل شہیدؒ کی کتاب  تقویۃ الایمان سے متاثر ہوئے۔ امام ابن تیمیہؒ، امام ابن قیمؒ اور شاہ ولیؒ اللہ کی فکر میں رچ بس گئے۔ مولانا مودودیؒ کی کتاب  الجہاد فی الاسلام، ان کو مولانا کے حلقے میں لے آئی اور وہ تحریک کی فکر کے صاحب ِ نظر ترجمان بن گئے۔ فقہ حنفی سے خصوصی نسبت کے باوجود ان کے خیالات میں بڑی وسعت تھی اور خود ایک مقام پر کہتے ہیں کہ ’’ذہن میں بحمدللہ جموداور گروہی عصبیت نہیں ہے‘‘۔ امام عبدالوہاب شعرانی  ؒ کے مکاشفے نے جو انھوں نے اپنی کتاب المیزان الکبریٰ میں نقل فرمایا ہے‘ ذہن وفکر کی وسعت کو اور بڑھا دیا ۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے محسوس کیا ہے کہ علم رسولؐ کی مثال ایک بڑے اور وسیع حوض کی ہے جس کے چاروں طرف نالیاں ہیں اور ہر ایک میں اس کی وسعت کے مطابق حوض کا پانی بہہ رہا ہے۔ مگرایک بڑی نالی ہے جس میں سب سے زیادہ پانی بہہ رہاہے۔ فرماتے ہیں کہ میں نے محسوس کیا ہے کہ وہ بڑی نالی امام ابوحنیفہؒ کی فقہ ہے اور باقی نالیاں دوسرے ائمہ کی فقہ ہے‘‘۔

مولانا گوہر رحمن نے دورۂ تفسیرقرآن کی روایت ۱۹۶۷ء سے قائم کی۔ پہلے‘ سال میں دو بار پورے قرآن کی تفسیر بیان فرماتے تھے۔پھر تحریکی ذمہ داریوں کی وجہ سے اسے سال میں ایک بار کر دیا۔ منصورہ میں ۱۰ سال ۱۵ شعبان سے ۲۷ رمضان تک ڈیڑھ مہینے میں ہر سال سیکڑوں مرد و خواتین کو مکمل قرآن کا درس دیا ۔ درس کا یہ سلسلہ روزانہ ۸ سے ۱۰ گھنٹے چلتا تھا جو محض روایتی درس قرآن نہ تھا بلکہ قرآن کے پیغام و معانی کے ساتھ عصری مسائل و معاملات پر ان تعلیمات کے اطلاق اور قرآن کی روشنی میں مطلوبہ انسان اور معاشرے کے قیام تک کے مباحث پر محیط ہوتا اورایمان‘ علم‘اخلاق اور تحریکیت‘ ہر ایک کو جلا بخشنے کا ذریعہ بنتا تھا۔

توحید اور اسلامی سیاست کے موضوع پر انھوں نے بڑی معرکہ آرا کتابیں تحریر کی ہیں جو اہل علم کے لیے ایک مدت تک سرمایۂ جان رہیں گی۔ ان کے مقالات اور وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ میں ریفرنسوں کا مجموعہ تفہیم المسائل کے عنوان سے پانچ جلدوں میں شائع ہوا ہے جو بیک وقت مولانا مودودیؒ کی تفہیمات اور رسائل و مسائل کا رنگ لیے ہوئے ہے۔ اپنے اپنے موضوع پر ہر تحریر معرکے کی چیز ہے۔ سود‘ اسلامی ریاست میں شوریٰ کا مقام‘ اسلام اور جمہوریت کے تعلق کی صحیح نوعیت‘ جدید اسلامی ریاست میں سیاسی جماعتوں کے وجود اور کردار کا مسئلہ‘ اقامت ِ دین کا حقیقی مفہوم اور غلبۂ دین کی جدوجہد کی اصل حیثیت وہ موضوعات جن پر مولانا نے صرف دادِ تحقیق ہی نہیں دی بلکہ بالغ نظری سے جدید حالات کو سامنے رکھ کر دین کے احکام کی تشریح کی ہے اور تطبیق کے میدان میں اجتہادی بصیرت کا مظاہرہ کیا ہے۔ جدید میڈیکل مسائل کے بارے میں بھی ان کی تحقیق روایت اور جدت کا امتزاج ہے۔ وہ جدید دور کے تقاضوں کا کھلے دل سے ادراک کرتے مگر روایت کے فریم ورک میں ان کا حل نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی رائے سے کہیں کہیں پورے ادب سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر ان کی رائے کے وزن اور علمی ثقاہت کے بارے میں دو رائے ممکن نہیں۔ میں نے اسلامی سیاست کے طرز پر ’’اسلامی معیشت‘‘ پر لکھنے کے لیے ان سے  بار بار درخواست کی لیکن بدقسمتی سے اس موضوع پر انھیں مربوط کتاب لکھنے کی مہلت نہ ملی۔ اگرچہ سود کی بحثوں میں معاشی معاملات پر انھوں نے اپنی جچی تلی آرا کا اظہار کیا ہے۔

مولانا گوہر رحمن بڑی سادہ زندگی گزارتے تھے۔ دلیل کو سننے اور اس پر غور کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتے تھے‘ گو اپنی رائے پر دلیل کی بنیاد پر ہی قائم رہتے تھے۔ اجتماعی زندگی کے مسائل کے سلسلے میں افہام و تفہیم کے لیے آمادہ رہتے لیکن جدید کے ادراک کے باوصف اپنے کردار کو قدیم اور روایت ہی کی ترجمانی قرار دیتے۔ دعوت کے میدان میں بے حد سرگرم اور  اَن تھک محنت کے عادی تھے۔ علم کا ایک بحربے کراں تھے اور الحمدللہ استحضار علمی کے باب میں منفرد تھے۔ بات منطقی ترتیب سے پیش کرتے اوردین کے معاملے میں کبھی مداہنت سے کام نہ لیتے۔ احتساب کے باب میں بھی ان کی گرفت مضبوط اور بے لاگ ہوتی۔ تدبیر کے معاملات میں اختلاف بھی پوری قوت سے کرتے اور پھر جو فیصلہ ہو جائے اس پر دیانت داری سے عمل کرتے‘ البتہ جس چیز کو شریعت کے باب میں راہ صواب کے مطابق نہ پاتے اس پر کبھی سمجھوتہ نہ کرتے لیکن شریعت کے دائرے میں جو حل نکلتا اسے خوش دلی سے قبول کر لیتے۔ اپنے اختلاف کو کبھی ذاتی تعلقات پر اثرانداز نہ ہونے دیتے جو ان کے کردار کی عظمت کی نشانی ہے۔

مجھے مولانا گوہر رحمن سے متعدد امور پر علمی استفادے کا موقع ملا اور میں نے ان کو ہمیشہ ایک روشن دماغ صاحب ِ علم پایا۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جن سے استفادہ بھی ایک سعادت تھی اور اختلاف بھی ایک درس کا درجہ رکھتا تھا۔ تحریکی زندگی میں ایک دور ایسا بھی آیا جس میں مولانا شدید اضطراب کا شکار تھے۔ کچھ چیزوں پر انھیں شدید عدمِ اطمینان تھا لیکن اس کے ساتھ تحریک سے وفاداری اور تعلق کے متاثر نہ ہونے دینے کی خواہش بھی تھی۔ ایک بہت ہی نازک مرحلے پر میں نے اور محترم چودھری رحمت الٰہی صاحب نے مردان کا سفر صرف اس لیے کیا کہ مولانا کے  نقطۂ نظر کو سمجھیں اور اختلاف کے باوجود تحریک سے تعلق کی استواری میں کمی نہ آنے کی درخواست کریں۔ اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کو اجرعظیم دے کہ اپنے انقباض کے باوجود ہماری اور دوسرے احباب کی کوششوں سے‘ اور سب سے بڑھ کر اللہ کے فضل و کرم سے‘ وہ اس دور سے جلد نکل آئے اور پھر اس کا کوئی سایہ ان کے تحریکی کردار پر باقی نہ رہا۔ جزاھم اللّٰہ خیرالجزائ۔

وہ کئی سال سے بیمار تھے۔ قوتِ کار برابر کم ہو رہی تھی۔ کمزور سے کمزور تر ہوتے جا رہے تھے لیکن ان کے عزم اور شوقِ کار میں کوئی کمی نہ آئی۔ اپنی زندگی کے شوریٰ کے آخری اجلاس میں بھی شریک تھے اورکھڑے ہوکر تقریر فرمائی اور اپنے خیالات کا اظہار اسی شان سے اور دلیل اور جرأت سے کیا جو اُن کا شعار تھا۔ زیربحث موضوع پر اپنی جچی تلی رائے کا اظہار دلائل کے ساتھ اور نکات کی تعداد کے تعین کے ساتھ کیا۔ البتہ ان کی نقاہت اور آواز کے گلوگیر ہوجانے سے دل کودھچکا لگا اور ان کے لیے صحت اور درازیٔ عمر کی دعا کی۔ آخری ملاقات ان کے لائق فرزند ڈاکٹر عطاء الرحمن کی پارلیمانی لاج کی قیام گاہ پر جنوری کے مہینے میں ہوئی۔ کیا خبر تھی کہ اس کے بعد ان سے ملنے کی سعادت حاصل نہ ہوگی اور ۱۸ مارچ ۲۰۰۳ء کو ان کے انتقال کی خبر ملے گی--- اناللّٰہ وانا الیہ راجعون!

Blog Image

شیخ القرآن والحدیث مولانا محمد چراغ رحمہ اللہ تعالیٰ

حضرت مولانا محمد چراغ رحمۃ اللہ علیہ14/جمادی الاخری1314ھ کو ضلع گجرات (پاکستان) کے ایک گاؤں موضع دھکڑ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ماجد جناب حافظ کرم دین صاحب کاشت کاری کا کام کرتے تھے۔ لیکن اس کے ساتھ علمی و ادبی ذوق بھی بہت عمدہ تھا۔ مثنوی مولانا روم اور دیوان حافظ وغیرہ کتب عموماً پاس رہتیں۔ 

ابتدائی تعلیم: 

حضرت مولانا محمد چراغ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تعلیم کا باقاعدہ آغاز تقریباً سات سال کی عمر میں کیا۔ جب مشہور عالم دین حضرت مولانا محمود صاحب گنجوی گجراتی نے آپ کو عربی قاعدہ کی بسم اللہ کرائی۔ قرآن کریم کی تعلیم اپنے والد بزرگوار سے گھر پر ہی حاصل کی اس کے بعدا سکول کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے اپنے برادر بزرگ محمد سراج صاحب عرف سراج الدین صاحب (جو اس دور کے منشی فاضل اور مولوی فاضل تھے) کے پاس لاہور تشریف لے گئے تقریباً چار سال تک آپ نے لاہور میں ہی قیام فرمایا اور مدرسہ نعمانیہ میں چوتھی جماعت تک تعلیم حاصل کی اسی دوران آپ نے فارسی کی اعلیٰ تعلیم اپنے بڑے بھائی مولانا محمد سراج صاحب اور مولانا محمد عالم صاحب آسیؔ مصنف”الکاویہ علی الغاویہ“سے حاصل کی۔اور اس کے علاوہ مولانا محمد عالم صاحب آسی سے خوش خطی سیکھی اور اس فن میں کامل مہارت حاصل کی۔ 

دار العلوم دیو بند میں داخلہ: 

دار العلوم دیو بند پہنچے تو شیخ الادب و الفقہ مولانا اعزار علی صاحب نے داخلہ کا امتحان لیا اور بڑی خوشی و مسرت سے دورۂ حدیث میں شرکت کی اجازت دی۔

(1936ء مطابق1354ھ) میں آپ نے گوجرانوالہ میں بیرون کھیالی دروازہ مسجد ارائیاں میں مدرسہ عربیہ کی بنیاد رکھی۔ مولانا محمد چراغ صاحب رحمۃ اللہ علیہ اب تک سینکڑوں تشنگانِ علم کو اپنے بہترین علم سے سیراب کر چکے تھے اور آپ کی وسعت ِنظر، فقاہت،کردار کی بلندی اور علم کی وسعت کی شہرت دور دور پھیل چکی تھی۔ مدرسہ عربیہ کی بنیاد رکھتے ہی شمع علم کے پروانے ٹوٹ ٹوٹ پڑے۔

یہاں تک کہ آبادی میں گھر جانے اور طالبانِ علم دین کی کثرت کی وجہ سے یہ جگہ تھوڑے عرصے بعد ہی نا کافی محسوس ہونے لگی۔ مدرسہ میں رہائش کی گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے طلبہ آس پاس کی دیگر مساجد میں رہائش رکھنے پر مجبور تھے۔ چنا نچہ 1967ء میں شاہراہِ عظیم (جی ٹی روڈ) پر گوجرانوالہ شہر سے چار میل کے فاصلے پر 18 کنال زمین حاصل کی گئی اور یکم اکتوبر1967ء کو مولانا محمد چراغ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے انتہائی شفیق استاذ، استاذ الاساتذہ حضرت مولانا ولی اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ (انہی شریف) نے جامعہ عربیہ جدید کا سنگ بنیاد رکھا۔ یکم اکتوبر 1969ء میں تعلیم کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ 

مولانا محمد چراغ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے اخلاص و ایثار اور لوگوں کے ہاں معتمد علیہ ہونے پر درخشندہ و زندہ جاوید دلیل جواب ایک عظیم اور پُر شکوہ عمارت کی شکل آنکھوں کو خِیرہ کر رہی ہے۔ ایک مختصر عرصہ میں پایہ تکمیل کو پہنچی ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ جب تعمیر کا آغاز کیا گیا تو جامعہ کے فنڈ میں صرف ایک روپیہ تھا۔ حضرت نے توکل علی اللہ پر کام شروع کر دیا اور توکل علی اللہ کا یہ عظیم مظہر اَب کروڑوں روپیہ کی عمارت کی شکل میں اپنی شان دکھا رہا ہے۔ 

تبلیغی سرگرمیاں: 

حضرت مولانامحمد چراغ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے دین اسلام کی باقاعدہ تبلیغ کا آغاز تعلیم کے بعد عملی زندگی میں قدم رکھتے ہی کر دیا تھا۔ حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی ہدایت اور مشورہ پر آپ نے اس وقت کے سب سے بڑے فتنے انکار ختم نبوت کے خلاف بھر پور کام کیا۔ اس سلسلہ میں آپ نے زبانی تقریروں پر اکتفا نہیں کیا۔ بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کی کتب اور تحریروں کا بغور مطالعہ کیا۔ اور اس کی تحریروں میں پائے جانے والے تضادات کو جمع کیا اور ردِّ مرزائیت کے سلسلے میں مختلف رسائل و جرائد میں مضامین لکھے۔ جن میں چند رسائل و جرائد مندرجہ ذیل ہیں۔ 

1……الفرقان 2 ……زمیندار 3 ……آزاد 4…… الارشاد 5 ……العدل 6 ……شمس الاسلام

مضامین نویسی کے علاوہ آپ نے اس سلسلے میں بہت مفید تالیف بھی کی جس کا نام آپ نے ”چراغ ہدایت“ تجویز کیا اور بحمد اللہ زیور طبع سے آراستہ ہو چکی ہے۔ 

حضرت مولانا محمدچراغ صاحب رحمۃ اللہ علیہ سیاسی میدان میں: 

حضرت الاستاذ مولانا محمد چراغ صاحب نے جس وقت عملی میدان میں قدم رکھا۔ اس وقت بر صغیر میں تحریک خلافت کا دَور دورہ تھا۔ چنانچہ آپ نے سب سے پہلے جس سیاسی جلسے سے خطاب کیا وہ ضلع گجرات میں میکروالی کے مقام پر ہونے والا اسی سلسلہ کا جلسہ تھا جس کی صدارت مولانا محمد علی جوہر و مولانا شوکت علی کی والدہ ماجدہ نے کی۔ اس طرح آپ نے تحریک خلافت میں شمولیت کے ذریعے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔

 اس کے بعد آپ نے جمعیت علماء ہند میں شمولیت اختیار کی اور جمعیت علماء ہند ضلع گوجرانوالہ کے صدر مقرر ہوئے۔ اس کے علاوہ آپ نے مجلس احرارِ اسلام میں کافی عرصہ تک کام کیا اور تحریک ختم نبوت کے سلسلے میں چھ ماہ کی قید کاٹ کر سنت یوسفی کی یاد تازہ کی۔کچھ عرصہ کے لیے آپ تبلیغی جماعت میں بھی رہے اور پھر قیام پاکستان کے بعد 1949ء میں آپ نے جماعت اسلامی کے ساتھ تعاون کا فیصلہ کیا کیوں کہ آپ کی نگاہ میں جماعت اسلامی ایک ایسی جماعت تھی جو مطالبہ نفاذ اسلامی اور اس جدوجہدمیں مخلص تھی اور مولانا مودود ی رحمہ اللہ کی سعی وجہد کا محور صرف اور صرف اسلام تھا۔ 

جماعت اسلامی پاکستان کے ساتھ اس تعاون پر آمادہ کرنے والے ایک خواب کا حضرت مولانامحمد چراغ صا حب e اکثر تذکرہ فرماتے تھے کہ ایک رات میں گوجرانوالہ کے نواحی گاؤں منڈیالہ وڑائچ میں اپنے شاگرد مولوی نور حسین کے ہاں مقیم تھا کہ میں نے خواب دیکھا شاہی مسجد کی تعمیر کا کام ہے اور اکیلا مودود ی رحمۃ اللہ علیہ کھلا پائجامہ پہنے سرخ داڑھی رکھے سر پر تغاری اُٹھائے مرمت کا کام کر رہا ہے۔ ان دنوں مولانا مودود ی رحمۃ اللہ علیہ قرار دادِمقاصد کی منظوری کے لیے ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کر رہے تھے۔ اور اس کی منظوری کے لیے فضا ہموار کر رہے تھے۔ 

چنانچہ آپ نے اس کی تعبیر یہی لی کہ مولانا مودود ی رحمۃ اللہ علیہ نفاذِ اسلام کے لیے جدو جہد کر رہے ہیں۔ آپ باوجود اس کے کہ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ سے علم و عمر میں بڑے تھے، مولانا کا بہت احترام کرتے۔آپ جماعت اسلامی کے با ضابطہ رُکن نہیں بنے۔ لیکن نفاذِ اسلام کی جد وجہد میں آپ نے جماعت اسلامی سے آخر دم تک بھر پور تعاون کیا۔ خصوصاً رفاہی کاموں میں حسبِ استطاعت دل کھول کر مالی و اخلاقی تعاون کیا۔ 

14/ رمضان المبارک1409 ھ بمطابق 12/اپریل1989ء کو شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے نور سے مستنیرچراغِ تاباں چار دانگِ عالم میں ہزاروں چراغ روشن کرنے کے بعد گل ہو گیا۔ علم کا پہاڑ زمین بوس ہو گیا۔ ایک ایسی ہستی جس پر علم کو ناز تھا۔ اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئی۔


 

Blog Image

مفتی سید سیاح الدین کاکاخیل رحمہ اللہ تعالیٰ

سابق: صدر رابطۃ المدارس الاسلامیہ پاکستان

نام :سید سیاح الدین کاکاخیل ؒ والد کانام :حافظ محمد سعد گل
تاریخ پیدائش :۸ شو ال ۱۳۳۴ھ بمطابق ۸ اگست۱۹۱۶ جائے پیدائش:زیارت کاکاخیل
ابتدائی تعلیم : ۱۹۳۰کو سرکاری لوئر مڈل سکول سے چھٹی جماعت پاس کی ۔ 
درس نظامی : ۱۹۳۱تا ۱۹۳۴فراغت:دارالعلوم دیوبند
اساتذہ کرام :قاضی عبدالسلام ؒ ، مولانا عبدالحق نافعؒ ، مولانا محمد سعد اللہ ؒ ، مولانا اعزار علی ؒ ، مولانا مفتی ریاض الدینؒ ، مولانا محمد ابراہیم بلیاوی ؒ ، مولانا عبدالسمیع ؒ ، مولانا حسین احمد مدنی ؒ ، مولانا میاں اصغر ؒ ، مولانا محمد شفیعؒ ، مولانا محمد طیب ؒ ، مولانا شمس الدین افغانی ؒ 
تدریس :تدریسی مراکز ،ضلع کوہاٹ کے ایک قصبہ شکردرہ کی جامع مسجد میں ایک مدرسہ قائم کیا ،جہاں حفظ قرآن مجید ، ناظرہ قرآن اور درس نظامی کی ابتدائی تعلیم دی جاتی تھی ۱۹۴۳کو آپ اپنے محسن و مربی مولانا عبدالحق نافع کے کہنے پر دار العلوم دیوبند پہنچے اور چھ مہینے وہاں تدریس کی خدمات سر انجام دی اس کے بعد آپ دار العلوم عزیریہ بھیرہ شریف تشریف لائے ۱۹۴۶ کو مدرسہ اشاعت العلوم جامع مسجد لائل پور میں صدر مدرس مقرر ہوئے ۔ ۱۹۵۹ میں آپ مولانا گوہر الرحمن ؒ کے اصرار پر تفہیم القرآن مردان آئے ایک سال کی تدریس کے بعد دوبارہ مدرسہ اشاعت العلوم چلے گئے
ذمہ داریاں : صدر رابطۃ المدار س الاسلامیہ پاکستان  , صدر جمعیت اتحاد العلماء پاکستان ، نظریاتی کونسل کی رکنیت ، مشیر اقتصادیات اسلامی ، 
اسفار : حج مبارک ۱۹۵۶، ۱۹۷۳،۱۹۷۶، برمنگھم ۱۹۸۳ ، مانچسٹر برنلے ،۱۹۶۶میں مشرقی پاکستان کے مختلف شہروں ڈھاکہ ، سہلٹ ، کشور گنج ،مولوی بازار وغیرہ ،مئی ۱۹۶۰کو جامعہ اشرفیہ میں ملک کے ممتاز ۱۹ علماء کا دو روزہ اجلاس ہوا جس میں صدر ایوب صاحب کے مقرر کردہ دستوری کمیشن کے سوالنامے کا جواب تیار کیا گیا ۔ اس اجلاس میں مفتی محمد حسین ، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ ، مولانا ابو الحسنا ت قادری ، مولانا محمد ادریس کاندھلوی ؒ نے بھی شرکت فرمائی تھی ۔ مفتی صاحب مرحوم نے اس اجلاس میں شرکت کی اور جواب پر دستخط فرمائے 
وفات : ۲۳  اپریل ۱۹۸۷ء

Blog Image

شیخ القرآن والحدیث مولانا محمد عنایت الرحمٰن رحمہ اللہ تعالیٰ

سابق: نائب صدر رابطۃ المدارس الاسلامیہ پاکستان

نام :                           محمد عنایت الرحمٰن                والد :                  مولانا محمد جانؒ                 

تاریخ پیدائش :                            26 جولائی 1931ء بمطابق 10 ربیع الاوّل 1350ھ ۔ بانڈی بالا ، سوات۔

شیخ صاحب کا شجرہ نسب  چودہویں پشت میں شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ سے جا ملتا ہے ۔ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم اور چچا مولانا فضل حق سے حاصل کی اور درس نظامی کی اعلیٰ تعلیم مدرسہ حقانیہ سوات سے حاصل کی اور دورہ حدیث جامعہ اشرفیہ لاہور سے 1954میں کیا مولوی فاضل کا امتحان 1954میں پنجاب یونیورسٹی سے کیا ۔

اساتذہ :   (والد) مولانا محمد جانؒ، (چچا) مولانا فضل حق، حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ، مولانا خان بہادرؒ المعروف مولانا مارتونگ، مولانا سیدحبیب شاہ لاہوریؒ، مولانا مفتی  جمیل احمدتھانوی ؒ، مولانا احمد علی لاہوریؒ، مولانا محمد نظیر چکیسریؒ، مولانا عبدالحلیم ؒ، مولانا عبدالمجید بونیریؒ، مولانا عبدالتوحید ؒ۔

جماعت اسلامی میں شمولیت:1954ءرکنیت 1955

ذمہ داریاں: 1966 ءمیں صوبائی شوریٰ کے رکن ،1979میں مرکزی مجلس شوری کے رکن ، 1983میں مرکز ی مجلس عاملہ کے رکن منتخب ہوئے ،1985تا1987مالاکنڈ ایجنسی کے امیر بھی رہے ،1984میں جمعیت اتحاد العلماءصوبہ سرحد کے صدر اور1990میں رابطۃ المدارس الاسلامیہ صوبہ سرحد کے صدر منتخب ہوئے اور یہ دونوں ذمہ داریاں آخرتک نبھائیں۔مہتمم جامعہ رحمانیہ درگئی 16 مارچ 1966 ء تا 21 ستمبر 2004ء ۔

تدریس:                    جامعہ اسلامیہ شیر گڑھ ( 1954ء)، جامعہ اسلامیہ اکوڑہ خٹک نوشہرہ(1959ء) ، جامعہ اشرفیہ لاہور ،  جامعہ رحمانیہ درگئی ( 1966ء تا 21 ستمبر 2004ء)، افغان یونیورسٹی (1987ء تا 1989ء)۔ 

تلامذہ :                      مولانا خورشید احمد، مولانا عبدالمستعان ،  مولانا مفتاح الدین (یوکے)،  مولانا محمد شریفؒ ، مولانا  احمد غفورغواصؒ ، مولانا صاحب اسلام ، مولانا عبدالسلام، مولانا عبدالقدوس، مولانا سید محمود فاروقی، مولانا صاحب زادہ، مولانا حافظ رحمت گل، مولانا میاں حضرت سید ؒ، مولانا محمد اسماعیل، مولانا نصیر احمد، مولانا مسیح گل، مولانا ڈاکٹرشمس الحق حنیف ، مولانا اسد اللہ، مولانا عزت خان، مولانا نصیر احمد ، مولانا صفی اللہ، مولانا ضیاء الرحمٰن فاروقی، مولانا جمال الدین، مولانا عطاء الرحمٰن، ڈاکٹر فصیح الدین اشرف، مولانا فضل قیوم، مولانا محمد احمد واسطی۔

بحیثیت ممبر قومی اسمبلی :   آپ ؒ دودفعہ قومی اسمبلی کے ممبر رہے( 1985ء تا 1988ء۔                         2002ء تا 2004ء )۔

تبلیغی و تنظیمی دورے:                      برطانیہ ،افغانستان ،سعودی عرب،دبئی۔

وفات:بروز منگل 21 ستمبر 2004ء کو صبح پونے نو بجے وفات پائی ۔

Blog Image

شیخ القرآن جناب مولانا خلیل احمد حامدی رحمہ اللہ

سابق: نائب صدر رابطۃ المدارس الاسلامیہ پاکستان

مولانا خلیل احمد حامدیؒ 23  جون 1929ء کو ضلع فیروزپور کے قصبہ”حامد” میں پیدا ہوئے ، اسی نسبت سے "حامدی” کہلائے ۔ وہ اپنے والد مولانا فتح محمد کی طرح حافظ قرآن تھے ( جو مولانا انور شاہ کاشمیری کے شاگردوں میں سے تھے ) . حمید نظامی روڈ کے مدرسہ عربیہ حنفیہ سے درس نظامی کیا، کرنال شہر سے نحو میں شرحِ جامی اور فقہ،ادب اور منطق کی کتب سے فیض یاب ہوئے ۔ اوریینٹل کالج سے منشی فاضل کا امتحان بھی پاس کیا ۔ زمانہ طالب علمی میں جماعتِ اسلامی سے وابستہ ہوگئے تھے ۔1944ء میں مولوی محمد علی مرحوم کے ساتھ پٹھان کوٹ میں سید ابوالاعلی ‘مودودی رحمتہ اللہ علیہ سے پہلی ملاقات ہوئی جس کے بعد آپ اپنے مدرسہ میں ” جماعتِ اسلامی والا” کے نام سے مشہور ہوئے- قیام پاکستان کے بعد آپ اپنی والدہ اور اعزاء کے ہمراہ ہجرت کرکے پاکستان چلے آئے۔ 1949ء میں رکن جماعت بنے اور سید مودودی صاحب کے رفقاء خاص میں شمار ہونے لگے ۔ آپ سید مودودی کے مضامین اور تقاریر کا عربی اردو ترجمہ کیا کرتے تھے ۔ دسمبر 1960ء میں آپ نے سید ابوالاعلی’ مودودی کے ساتھ سعودی عرب کا دورہ کیا اور اس کے بعد یہ ناممکن ہوگیا کہ مولانا مودودی بیرونِ ملک جائیں اور خلیل احمد حامدی ہمراہ نہ ہوں!

نہ غرض کسی سے نہ واسطہ ، مجھے کام اپنے ہی کام سے

تیرے ذکر سے ، تیری فکر سے ، تیری یاد سے ، تیرے نام سے !

مولانا خلیل احمد حامدی رحمتہ اللہ علیہ ،1963ء میں دارالعروبہ کے ناظم بنے اور اپنی وفات تک اسی منصب پر فائز رہے ۔ اسلامک ایجوکیشن سوسائٹی کی بنیاد رکھی اور بعد میں اس کے چیرمین بنے ۔ بیرون ملک آپ نے جاب بھی کی ۔ اردن میں "رائل اکیڈمی برائے تحقیقات تہذیب اسلامی” کے مئر رہے ۔ آپ ایک ہمہ گیر ، متحرک شخصیت تھے ۔ وقت کی بہت قدر کرتے ، ایک ایک پل کام میں لگاتے ۔ آپ منصوبہ ساز بھی تھے ، نئے پراجیکٹ ، نئے اداروں کی پلاننگ کرتے ، ان کے لئے مادی وسائل کی خاطر عملی جدوجہد کرتے ، آپ انسانی وسائل بھی مہیا کرتے ۔ لوگوں سے دین کی خاطر تعلقات قائم کرتے اور انھیں اقامت دین کی جدوجہد کرنے کے لئے تیار کرتے ۔ آپ کی ترغیب پر کینیا سے حافظ محمد ادریس صاحب جبکہ ڈاکٹر منصور علی صاحب انگلستان سے پاکستان آئے ۔ آپ نے کئی پاکستانیوں کو بیرون ملک تعلیم دلوانے کا انتظام کیا جن میں رکن مرکزی مجلس شوریٰ جماعت اسلامی پاکستان اور آپ کے دوست حکیم عبدالرحمن عزیز صاحب کے بیٹے عبدالغفار عزیزبھی شامل تھے !

مولانا خلیل احمد حامدی رحمتہ اللہ علیہ نے بیرون ملک کے کئی اسفار کیے اور امت مسلمہ کے مسائل کے حل کے لئے عملی کوششیں کیں ۔ آپ نے جن ممالک کے دورے کئے ان میں متحدہ عرب امارات ، ملائیشیا ، ماریشیس ، تنزانیہ ، سوڈان ، اریٹیریا ، سنگاپور ، بوسنیا ، البانیہ ، بلغاریہ، برطانیہ ، امریکہ ، شام ، مصر ، کویت ، عمان ، اردن ، ترکی ، سعودی عرب ، فلپائن ، مالدیپ شامل ہیں-

آپ کو 35 حج کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ۔ بیرون ملک دوروں کے دوران آپ اپنے قائم کردہ اداروں کو چلانے ، طلبہ کے تعلیمی اخراجات ، جماعت کے دفاتر کا خرچہ ، ملازمین کی تنخواہوں کے لئے وسائل تلاش کرتے ۔ آپ نے متعدد بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کی ۔ رابطہ عالم اسلامی کا کوئی اجلاس ایسا نہ تھا جس میں آپ نے مسئلہ کشمیر پر قرارداد نہ پیش کی ہو ۔

پہلی اسلامی سربراہی کانفرنس ، جو مراکش کے شہر رباط میں ہوئی ، آپ اس میں شریک تھے ، عرب دنیا کے ابو بدر نے آپ کو "سفیرالاسلام” کا خطاب دیا ۔ جب سعودی عرب کی حکومت نے مولانا مودودی رحمتہ اللہ علیہ کو ان کی دینی خدمات کے لئے شاہ فیصل ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا تو مولانا مودودی نے خلیل حامدی صاحب کو جماعتِ اسلامی پاکستان کا نمائندہ بنا کر بھیجا اور آپ نے وہاں عربی تقریر بھی کی اور یہ شان دار ایوارڈ بھی وصول کیا ۔ اسی ایوارڈ کی رقم سے آپ نے منصورہ کی زمین خریدی اور منصورہ کا نام بھی تاریخ کے ایک مشہور شہر کے نام پر رکھا۔ یہاں جنگل کی طرح درخت تھے جنھیں صاف کروا کے تعمیرات کروائیں ۔ منصورہ ہسپتال بھی تعمیر کروایا۔

آپ امت مسلمہ کے اتحاد کے داعی تھے ۔ آپ کی زندگی کا ایک بڑا کارنامہ عراق اور کویت کے مابین جنگ کو رکوانا ہے ۔ اس کے لئے آپ نے صدر صدام حسین سے خصوصی ملاقات کرکے انھیں جنگ روکنے پر آمادہ کیا تھا۔

مولانا خلیل حامدی تقریباً دس برس تک حج کے موسم میں سرزمین حجاز پر حاجیوں کو لیکچر دیتے رہے ، ان کے نزدیک ساری امت ایک ہی وحدت تھی ، اقامت دین کا جذبہ انھیں کہیں بیٹھنے نہیں دیتا تھا ۔ آپ معلم بھی تھے ، مدرس بھی اور مصنف بھی ۔ آپ نے کتابوں کا ایک گراں قدر ذخیرہ چھوڑا ہے جو اس قابل ہیں کہ انھیں دوبارہ شائع کروایا جائے مثلاً آفاق دعوت ، تحریکی سفر کی داستان ، تحریک اسلامی کے عالمی اثرات ، بوسنیا ، ترکی قدیم و جدید ، سرخ اندھیروں میں ، عالم اسلام اور اس کے مسائل و افکار ، اخوان المسلمین تاریخ اور دعوت ، جہاد اسلامی وغیرہ ۔

آپ نے مولانا مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی متعدد کتب کے عربی تراجم بھی کئےاور کئی عالمی شہرت یافتہ عربی کتب کو اردو زبان میں منتقل کیا جن میں جادہ و منزل ، حسن البنا کی ڈائری ، اذکار مسنونہ ، عصر حاضر میں اسلام کی زبوں حالی ، اسرائیل کی تعمیر میں اشتراکی ممالک کا کردار ، روداد ابتلاء ( مصر ) ، روداد قفس ( زینب الغزالی ) جدید نظریات کی ناکامی اور اسلامی نظام کی ضرورت ، تحریک اور کارکن ( سید مودودی ) ، صدائے رستا خیز ، بانگ سحر ، آفتاب تازہ اور متعدد عربی تالیفات شامل ہیں۔

ایک عالم اور متعدد اداروں کے بانی ہونے کے باوجود آپ انتہائی سادہ اور درویش منش انسان تھے ۔ آپ کی ہر دل عزیزی کا اصل راز آپ کی ملنساری اور حسن اخلاق کی کشش میں تھا ۔ آپ انسانوں کی خوبیوں کے قدردان اور خامیوں سے صرفِ نظر کرنے والے تھے ۔ آپ افسروں کے تکبر اور جاہلوں کے غرور سے بالکل پاک تھے ۔ آپ کے قائم کردہ اداروں میں سید مودودی انسٹی ٹیوٹ وحدت روڈ ، ادارہ تحفیظ القرآن منصورہ ، منصورہ ماڈل ہائی سکول برائے طلبہ ، منصورہ ماڈل ہائی سکول طالبات اور جامع مسجد منصورہ سمیت ایک درجن مساجد شامل ہیں۔

ہر صاحبِ نعمت کو رشک و حسد کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ایک بار مولانا خلیل حامدی صاحب کو ان کے ایک دوست نے کسی شخص کے حسد کے بارے آگاہ کیا ،ایک بار کسی نے کہا کہ فلاں آپ کے خلاف یوں افواہیں اڑاتا ہے ۔ حامدی صاحب نے بڑا یادگار جملہ کہا ” لوگ باتیں کرتے رہیں گے اور ہم اپنے کام کر جائیں گے !” وہ اپنے مخالفین کا معاملہ ،اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا کرتے تھے ۔

اس دور کے عرب حکمران امت سے محبت کرنے والے تھے اور اہل علم حضرات کے قدر دان تھے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایک بار غلاف کعبہ پاکستان میں تیار کیا گیا اور تیار کروانے والی شخصیت مولانا خلیل احمد حامدی تھے ، جنھوں نے سعودی حکمرانوں سے خصوصی گزارش کر کے پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی کو مستحکم کیا اور سعودی حکمرانوں نے اس تحفہ کو خوشی سے قبول کیا ۔

2006ء میں مولانا خلیل احمد حامدی کے بیٹے اسامہ خلیل حامدی نے اپنے والد کی یاد میں منصورہ میں ایک کانفرنس منعقد کروائی تھی ،جس سے اس وقت کے امیر جماعت اسلامی،قاضی حسین احمد نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا:
"مولانا خلیل احمد حامدی نے پوری دنیا میں جماعت اسلامی کو متعارف کروایا اور سید مودودی کی فکر کو پھیلایا، وہ دنیا کی اسلامی تحریکوں سے جماعت کے رابطے کا ذریعہ بنے ۔ مرحوم نے قلم ، زبان اور عمل سے اسلام کی سربلندی کے لئے جہاد کیا ، وہ اسلامی تحریکوں کے لئے بہت بڑا سرمایہ تھے ! "

مولانا خلیل احمد حامدی نے ساری زندگی ، اپنی صلاحیتوں اور وقت کو اقامت دین کی جدوجہد میں لگایا ، یہاں ان کی اہلیہ کے صبر واستقامت کا تذکرہ کرنا بھی ضروری ہے جنھوں نے شوہر کے بیرون ملک اسفار ، تنظیمی مصروفیات و دیگر کاموں کے لئے انھیں یکسوئی فراہم کی ۔ اکیلے پن کی مشکلات کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا ۔ گھرداری اور بچوں کے سارے کام تنہا سنبھالے اور جب وہ دنیا سے چلے گئے تو اس وقت بھی یتیم بچوں کا سائبان بنی رہیں ۔ آج بھی امت کو ایسی ہی رفیقائے حیات کی ضرورت ہے۔

مولانا خلیل احمد حامدی 25 نومبر 1994ء کو ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔ وفات کے وقت زبان پہ سورہ یاسین کی آیات تھیں ۔ اللہ تعالیٰ انھیں جوار رحمت میں خاص مقام عطا فرمائے اور ان کی اولاد کو ان کے لئے صدقہ جاریہ بنادے۔آمین۔